Potato Benefits for Health in Urdu

 آلو کیا ہیں؟


 آلو  نائٹ شیڈ  خاندان  کا ایک رکن ہے . ٹماٹر اور  بینگن  بھی  اسی خاندان   میں  شامل ہیں، آلو 


کی  کاشت  زیر زمین  ہوتی   ہے ۔ آلو کی مختلف اقسام  ہوتی ہے . لیکن کھانا پکانے کے  حوالے  


 سے   میٹھے  آلو .  نرم آلو .  اور نئے آلو     سر  فہرست   ہیں۔


  میٹھے   آلو، جیسے مارس پائپر(کریمی گوشت اور ہموار بیضوی کندوں کے ساتھ ایک قسم کا آلو)، چھوٹے  چھوٹے  


 دانوں  پر  مشتمل  ہوتے  ہیں. جسے امائلوز(کاربو ہائيڈريٹ گِروہ ميں سے کوئی ايک) کہتے ہیں۔  میٹھے  


 آلو  کو  جب پکایا  جاتا  ہے  تو  یہ دانے پھول جاتے ہیں اور پھٹ جاتے ہیں تاکہ ایک نرم  


بناوٹ پیدا ہو۔

 

نرم  آلو میں امائلوز (کاربو ہائيڈريٹ گِروہ ميں سے کوئی ايک)کم ہوتا ہے –  نرم  آلو  پکانے   کے بعد  


سخت  ہو جاتے  ہیں ، جو  کہ بھوننے  یا   کوئلوں  پر  پکانے  کے  لیے   مثالی ہے۔


نئے آلو   موسم   کے   آغاز    میں  ہوتے  ہیں۔ پکانے پر وہ اپنی ساخت کو برقرار رکھتے ہیں،  جو  


آلو  کی سلاد کے لیے بہترین  ہیں۔آلو ایک  کثیر   تعداد   میں  استعمال  ہونے والی    سبزی ہے اور 


بہت سے گھرانوں میں ایک اہم غذا ہے۔


آلو نسبتاً سستے، اگانے میں آسان اور مختلف قسم کے غذائی اجزاء سے بھرے ہوتے ہیں۔


آلو کے  صحت اور غذائی فوائد ۔


1. غذائی اجزاء سے بھری ہوئی


آلو بہت سے وٹامنز اور معدنیات کا بہترین ذریعہ ہیں۔


 173 گرام   کے  آلو  میں   درج  ذیل  غذایت  ہوتی  ہیں .


کیلوریز: 161


چربی: 0.2 گرام


پروٹین: 4.3 گرام


کاربوہائیڈریٹ: 36.6 گرام


فائبر: 3.8 گرام


وٹامن سی: RDI کا 28٪


وٹامن B6: RDI کا 27%


پوٹاشیم: RDI کا 26%


مینگنیج: RDI کا 19%


میگنیشیم: RDI کا 12%


فاسفورس: RDI کا 12%


نیاسین: RDI کا 12%


فولیٹ: RDI کا 12%


آلو کی غذائیت  کا  دارومدار   اس  بات  پر   ہے  کہ وہ کس طرح    پکایئں  جاتے ہیں۔ مثال کے 


طور پر، آلو کو بھوننے سے  یا ان کو پکانے سے زیادہ کیلوریز اور چکنائی ملتی ہے۔

  

 آلو کی جلد میں وٹامنز اور منرلز کی بڑی مقدار ہوتی ہے۔ آلو کو چھیلنے سے ان کی غذائیت کو 


نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔


2. اینٹی آکسیڈنٹس پر مشتمل ہے۔


آلو فلیوونائڈز(نبات کا ایک گروہ جِس میں سفید اور زرد مادّے قُدرتی طور سے پائے جاتے ہیں)، کیروٹینائڈز ( بہت سے پھلوں 


اور سبزیوں میں چمکدار سرخ، پیلے اور نارنجی رنگوں کے لیے ذمہ دار پودوں کے روغن ہیں۔)اور فینولک ایسڈز جیسے 


مرکبات سے بھرپور ہوتے ہیں۔


یہ مرکبات فری ریڈیکلز(آزاد ذرات )کی وجہ  سے ہونے والے  ممکنہ نقصان دہ مالیکیولز کو بے اثر 


کرکے جسم میں اینٹی آکسیڈینٹ(عمل تکسید کو روکنے والا عامِل جو خصوصاً کھُلی ہوا میں رکھی ہوئی اشیا کے تحفظ کے 


لیے اِستعمال ہوتا ہے) کے طور پر کام کرتے ہیں۔ جب آزاد ریڈیکلز جمع ہوتے ہیں، تو وہ دل کی 


بیماری، ذیابیطس اور کینسر جیسی دائمی بیماریوں کا خطرہ بڑھا  دیتے   ہیں۔


 ٹیسٹ ٹیوب (امتحانی نلی )کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ آلو میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس (عمل 


تکسید کو روکنے والا عامِل جو خصوصاً کھُلی ہوا میں رکھی ہوئی اشیا کے تحفظ کے لیے اِستعمال ہوتا ہے) جگر اور بڑی آنت 


کے کینسر کے خلیوں کی نشوونما کو  روکتے   ہیں۔


مطالعے سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ رنگین آلو جیسے جامنی آلو میں سفید آلو کے مقابلے تین سے چار 


گنا زیادہ اینٹی آکسیڈنٹس(عمل تکسید کو روکنے والا عامِل جو خصوصاً کھُلی ہوا میں رکھی ہوئی اشیا کے تحفظ کے لیے اِستعمال 



ہوتا ہے)  ہوتے ہیں۔ یہ انہیں آزاد ریڈیکلز کو  اثر انداز  ہونے سے روکتے  ہیں۔


3. بلڈ شوگر کنٹرول کو بہتر بنا سکتا ہے۔


آلو میں ایک خاص قسم کا  فالودہ  ہوتا ہے جسے  مزاحمتی   فالودہ   کہا جاتا ہے۔


یہ فالودہ  ٹوٹتا  نہیں ہے اور جسم  میں  مکمل طور پر جذب  ہونے  سے پہلے   یہ بڑی آنت تک پہنچ 


جاتا ہے جہاں یہ آپ  کی آنتوں   میں فائدہ مند بیکٹیریا کے لیے غذائی اجزاء کا ذریعہ بن جاتا 


ہے۔


تحقیق نے مزاحمتی     فا لو دے  کو بہت سے صحت کے فوائد سے جوڑ دیا ہے، بشمول انسولین 


(ذیابیطس سے بچنے کے لئے استعمال ہونے والی ایک قسم کی دوائی)کے خلاف مزاحمت کو کم کرنا، جس کے نتیجے 


میں، خون میں شوگر کے کنٹرول کو بہتر بنایا جاتا ہے۔


جانوروں کے مطالعے  سے پتا  چلتا  ہے  کہ  چوہوں کو کھلایا جانے والا مزاحمتی    فالودہ   انسولین  


(ذیابیطس سے بچنے کے لئے استعمال ہونے والی ایک قسم کی دوائی)کے خلاف مزاحمت کو کم کرتا ہے۔ اس کا 


مطلب ہے کہ ان کے جسم خون سے اضافی شوگر نکالنے میں زیادہ موثر ہے ۔


ٹائپ 2 ذیابیطس(شوگر کی ایک بیماری) کے شکار لوگوں کے مطالعے سے پتا چلا ہے کہ  آلو  کے ساتھ 


کھانا کھانے کے بعد اضافی بلڈ شوگر کو بہتر طریقے سے دور کرنے میں مدد  ملتی ہے۔


ایک اور تحقیق میں، دس افراد کو چار ہفتے کے عرصے میں روزانہ 30 گرام  آلو   کھلایے   جانے  


 کے  نتیجے  میں انسولین کی مزاحمت کو 33 فیصد کم  پایا گیا .


دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ آلو میں  مزاحمتی  فا لو دے  کی مقدار کو بھی بڑھا سکتے ہیں۔ اس کے 


لیے ابلے ہوئے آلو کو رات بھر فریج میں رکھ کر ٹھنڈا کر لیں۔


4. ہاضمہ صحت کو بہتر بنا سکتا ہے۔


آلو  کا فالودہ    ہاضمہ  کو بہتر بنا سکتا ہے۔


جب   آلو کا فالودہ   بڑی آنت تک پہنچتا ہے تو یہ آنتوں کے فائدہ مند بیکٹیریا کی خوراک بن جاتا 


ہے۔ یہ بیکٹیریا اسے ہضم کر لیتے ہیں اور اسے شارٹ چین فیٹی(شارٹ چین فیٹی ایسڈ آپ  کی آنتوں 


میں دوستانہ بیکٹیریا سے تیار ہوتے ہیں)  میں بدل دیتے ہیں۔


آلو  کا فالودہ  زیادہ تر شارٹ چین فیٹی ایسڈ(شارٹ چین فیٹی ایسڈ آپ  کی آنتوں میں دوستانہ بیکٹیریا سے تیار ہوتے 


ہیں) بائٹریٹ(بیوٹیرک ایسڈ کا ایک نمک) میں تبدیل ہو جاتا ہے -  اور آنتوں  کے  بیکٹیریا کے لیے  


خوراک  بن جاتا  ہے ۔


مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ بائٹریٹ(بیوٹیرک ایسڈ کا ایک نمک) بڑی آنت میں سوزش کو کم کر سکتا 


ہے، بڑی آنت کے دفاع کو مضبوط بنا سکتا ہے اور کولوریکٹل کینسر(بڑی آنت کا کینسر) کے 


خطرے کو کم کر سکتا ہے ۔


5. قدرتی طور پر گلوٹین سے پاک


گلوٹین(چیپ دار شے) فری غذا دنیا بھر میں سب سے زیادہ مقبول غذا  سمجھی  جاتی   ہے۔  آلو  


 گلوٹین (چیپ دار شے)کو ختم کر دیتا   ہے،   گلوٹین (چیپ دار شے)  پروٹین کا ایک خاندان ہے  . یہ  


پروٹین   اناج، گندم، جو  وغیرہ    میں پائے جاتے ہیں۔


زیادہ تر  لوگوں  کا ماننا  ہے کہ  گلوٹین (چیپ دار شے)  صحت   کے  لیے   نقصان   دہ  نہیں  ہے ۔ 


کیونکہ   گندم   کا آٹا اور  جو  کا  دلیہ   روزانہ  استعمال  ہونی  والی  اشیا  ہیں .


تاہم،   بھوک   نہ  لگنا  یا  کم  بھوک   لگنے   والے   لوگ  جب گلوٹین (چیپ دار شے) پر مشتمل کھانا  


کھاتے  ہیں  .انکو     پیٹ میں تیز درد،   پیچَش ، قبض،  پیٹ  کا گیس   اور جلد کے دھبوں  جیسی  


 علامات  کا سامنا  کرنا  پڑ  سکتا   ہے .


اگر آپ گلوٹین (چیپ دار شے) سے پاک غذا  کھانا  چاہتے   ہیں، تو آپ کو اپنی غذا میں آلو کو شامل  


کریں   ۔  کیونکہ  آلو   قدرتی طور پر گلوٹین (چیپ دار شے) سے پاک ہیں، جس کا مطلب  ہے  کہ  آلو  


آپکو   گلوٹین  (چیپ دار شے)  سے ہونی  والی  تکلیفوں  سے بچاتا  ہے .


جبکہ آلو گلوٹین (چیپ دار شے)  سے پاک ہیں، آلو کی بہت سی عام ترکیبیں نہیں ہیں۔ آلو کے کچھ 


پکوان جن میں گلوٹین(چیپ دار شے)   ہوتا ہے ان میں au gratin  (پَنير اور روٹی کے چُورے اور مَکھَن کے 


ساتھ اِس قَدَر بھُونا ہُوا کہ اُس ميں بھُورا پَن آ جائے )کی مخصوص ترکیبیں اور آلو کی روٹی شامل ہے۔


6. ناقابل یقین حد تک بھرنا

 آلو  غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں  ، اور   ناقابل یقین حد تک     کھا نے  والے   کو  غذایت  


فراہم  کرتے  ہیں ۔


ایک مطالعہ میں، 11 لوگوں کو 38 عام کھانے کی چیزیں کھلائی گئیں اور ان سے کہا گیا کہ کھانے 


کی درجہ بندی اس بنیاد پر کی جائے کہ  جب  تک  وہ    کھا نے  سے  لبریز  نہ  ہو   جایئں ۔ آلو کو ان 


سب میں سب سے زیادہ  اہمیت  ملی۔


درحقیقت،    پیٹ بھرنے والے کھانے آپ کو وزن  کنٹرول کرنے یا کم کرنے میں مدد دے 


سکتے ہیں، کیونکہ وہ بھوک  لگنے  سے   پیٹ   میں  پیدا  ہونے  والے   درد کو روکتے ہیں ۔


کچھ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ آلو کا ایک خاص پروٹین، جسے  پروٹیناس انحیبیٹر 2 (PI2) (پروٹینیز روکنے 


والا)کہا جاتا ہے، بھوک کو کم کر سکتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ پروٹین cholecystokinin 


(CCK) (ایک ہارمُون جو پِتّے کو سُکیڑتا ہے )کے اخراج کو بڑھاتا ہے، جس  کی وجہ  سے    پیٹ  بھرا  


بھرا  سا  محسوس  ہوتا  ہے ۔


 چربی   ختم کرتا ہے .


صحت کے ماہرین سمیت بہت سے لوگ آلو کے بارے میں منفی  سوچ   رکھتے ہیں، لیکن  


 جب آلو ابالے یا پکائے جائیں تو وہ تقریباً چکنائی سے پاک ہو جاتے   ہیں۔ اور چکنائی سے  


چربی  پیدا  ہوتی  ہے   آلو  کو  ابالنے  یا  پکانے  کے  بعد  آلو  سے  چربی   پیدا  ہونے  کا  عمل  ختم  


ہو جاتا  ہے ، آلو  چاول   اور   پاستا  کی نسبت    کم کیلوریز فراہم کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ پاستا اور 


چاول کے برعکس،  آلو  مفید مائیکرو نیوٹرینٹس (غذا کے چھوٹے چھوٹے دانے) کا حصہ   بنتے  ہیں، جیسے 


وٹامن سی، فولیٹ اور پوٹاشیم۔


آلو میں پروٹین کی مقدار کم ہوتی ہے، لیکن  آلو  جو پروٹین فراہم کرتے ہیں وہ بہترین حیاتیاتی قدر  


کے  حامل  ہوتے ہیں  - اس کا مطلب ہے کہ آلو  صحت کے لیے ضروری امینو ایسڈز(امینو 


ایسڈ سے مراد ایسے نامیاتی سالمے (مولیکیول) ہوتے ہیں جن میں ایک امینو گروپ (-NH2) اور ایک کاربواوکسل گروپ (-


COOH) دونوں ایک ہی کاربن ایٹم سے جڑے ہوتے ہیں) کا اچھا پھیلاؤ فراہم کرتا ہے۔


آنتوں کی صحت کو سپورٹ کرتا ہے۔


 آلو  فائبر کا ایک اچھا ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ، آلو کا  فالودہ   ہمارے آنتوں کے جرثوموں 


کے لیے خاص طور پر فائدہ مند ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ' مزاحمتی   فالودہ  ' ہے، یعنی یہ 


ہمارے ہاضمے کے خلاف  مزاحمت  کرتا  ہے لیکن  ہماری  آنتوں کے بیکٹیریا  اسے توڑ کر  


 انہیں وہ ایندھن فراہم  کرتے  ہے جس کی انہیں کام کرنے اور پھلنے پھولنے کی ضرورت 


ہوتی 


ہے۔


جب ہم آلو پکاتے ہیں اور ٹھنڈا کرتے ہیں، تو  فالودہ  کے دانے ایک دوسرے  کے   ساتھ  جم  


جاتے ہیں، جس سے وہ ہاضمے کے لیے زیادہ  مزاحمتی   ہو جاتے  ہیں۔  اور  ہاضمے   کو   کھانا   ہضم  


کرنے   میں  مدد   دیتے  ہیں.  جس  سے    عمل انہضام، کچھ دائمی بیماریوں کا خطرہ اور بڑی آنت 


کے کینسر کا خطرہ کم ہوتا    ہے ۔


کیا آلو سب کے لیے محفوظ ہیں؟


آلو کو عام طور پر زیادہ لوگوں کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔  لیکن   کچھ افراد کو کچے اور پکے 


دونوں آلوؤں سے الرجی ہو سکتی ہے۔ اگر آپ کو آلو سے الرجی ہے تو، آپ کو ٹماٹر،  شملہ  


 مرچ اور  بینگن  سمیت solanaceae خاندان  کی    دیگر  سبزیوں  سے بھی الرجی ہو سکتی ہے۔


آلو میں ایسے  مرکبات ہوتے ہیں جنہیں گلائکوالکلائیڈز (ایسے مادوں کا ایک گروپ جو نامیاتی اساس کی حیثیت رکھتے 


ہیں)کہتے ہیں، جس میں سولانائن(ایک قسم کی سمی القلی نما شکر جو بعض درختوں میں پائی جاتی ہے ) شامل ہوتا 


ہے۔ یہ مرکبات زیادہ مقدار میں  کھا نے  سے   زہریلے ہو  جاتے  ہیں۔ آلو کو  پکانے  سے پہلے  


 اسکی   جلد پر نظر آنے والے سبز رنگ کے دھبوں کو دیکھیں – یہ  دھبے   گلائکوالکلائیڈز (ایسے مادوں کا 


ایک گروپ جو نامیاتی اساس کی حیثیت رکھتے ہیں)کی اعلی سطح کی نشاندہی  کرتے  ہیں ۔ آلو کے ان حصوں کو 


پکانے سے پہلے نکال لیں۔ آلو کو ٹھنڈی، تاریک جگہ پر ذخیرہ کریں تاکہ گلائیکوالکلائیڈز(ایسے مادوں کا 


ایک گروپ جو نامیاتی اساس کی حیثیت رکھتے ہیں) جمع نہ ہوں۔









Comments

Popular posts from this blog

Khashkhash Benefits in Urdu

Gond Katira Benefits for Health in Urdu